کسی لفظ کے شروع میں کوئی علامت لگا کر اس سے ایک نیا لفظ بنالیا جاتا ہے۔ اس علامت کو "سابقہ" کہتے ہیں۔
جیسے کہ "ادب" کے آگے "بے" لگا کر "بےادب" اور "سمجھ" کے آگے "نا" لگا کے "ناسمجھ" بنالیا جاتا ہے اور "مول" سے "انمول"۔۔۔۔اس مثال میں "بے" "نا" اور "ان" سابقے ہیں۔
کسی لفظ کے آخر میں کوئی علامت لگا کر اس سے نیا لفظ بنایا جائے تو اسے "لاحقہ" کہا جاتا ہے۔
جیسے "ضرورت" کے آخر میں "مند" لگا کر "ضرورتمند" اور "درد" کے آخر میں "ناک" لگا کر "دردناک"۔۔۔یہاں "مند" اور "ناک" لاحقے ہیں۔
کسی لفظ کے آخر میں کوئی علامت لگا کر اس سے نیا لفظ بنایا جائے تو اسے "لاحقہ" کہا جاتا ہے۔
جیسے "ضرورت" کے آخر میں "مند" لگا کر "ضرورتمند" اور "درد" کے آخر میں "ناک" لگا کر "دردناک"۔۔۔یہاں "مند" اور "ناک" لاحقے ہیں۔
*******
کسی لفظ کے شروع میں کوئی علامت لگا کر اس سے ایک نیا لفظ بنالیا جاتا ہے۔ اس علامت کو "سابقہ" کہتے ہیں۔
جیسے کہ "ادب" کے آگے "بے" لگا کر "بےادب" اور "سمجھ" کے آگے "نا" لگا کے "ناسمجھ" بنالیا جاتا ہے اور "مول" سے "انمول"۔۔۔۔اس مثال میں "بے" "نا" اور "ان" سابقے ہیں۔