ذٰلِک عربی میں اسم اشارہ ہے جو بعید (دور) کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کا اردو میں مطلب "وہ" یا "وہ چیز" ہوتا ہے، جیسے "ذٰلِکَ الْکِتَابُ" (وہ کتاب). یہ قریب کی چیزوں کے لیے استعمال ہونے والے اسم اشارہ "ھذا" (یہ) کے برعکس ہے، جس کا مطلب "یہ" ہوتا ہے.
اعراب (زبر، زیر، پیش، وغیرہ) وہ علامات ہیں جو اردو حروف پر لگتی ہیں تاکہ ان کا تلفظ (آواز کی درست ادائیگی) واضح ہو سکے؛ زبر (َ) آواز 'ا' کی، زیر (ِ) آواز 'اِ' کی، اور پیش (ُ) آواز 'اُو' کی پیدا کرتی ہے، جو الفاظ کو صحیح معنوں اور ادائیگی کے ساتھ پڑھنے میں مدد دیتی ہے،
'یاد اللہ ہونا' کا مطلب ہے کسی سے تعلق، جان پہچان، سلام دعا، رسم و راہ یا دوستی ہونا، یعنی دونوں شخص ایک دوسرے سے واقف ہوں اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات ہوں، نہ کہ صرف اللہ کو یاد کرنا، بلکہ معاشرتی تعلقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے "ہماری اُن سے یاد اللہ ہے" (ہمارے اچھے تعلقات ہیں).