رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔
رباعی کا وزن مخصوص ہے، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔
اس کے موضوعات مقرر نہیں۔
اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔رباعی کا موجد فارسی شاعر رودکی کو مانا جاتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان ہیں
بانگ درا میں بچوں کے لیے علامہ اقبال کی نظم” ایک مکڑ اورمکھی“ انتہائی دلچسپ اور سبق آموز ہے۔
علامہ اقبال نے اس نظم میں ایک کہانی بیان کر دی ہے کہ مکڑے نے کس مکاری سے مکھی کو اپنی باتوں سے ورغلایا اور مکڑے کی خوشامد سے کس طرح مکڑی موت کے منہ میں چلی گئی ۔
پروین شاکر نے اردو ادب میں پہلی بار صنف نازک کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ضمیر واحد متکلم کا استعمال کیاجس سے ا ن کے قاری بہت جلد ان کی طرف ایک مقناطیسی قوت کے ساتھ کھینچے چلے آئےماہ تمام ان کا کلیات ہے اس کلیات میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکاراور کف آئینہ شامل ہیں۔