ایم ایس ایکسل میں آپ دو سیلز سے ٹیکسٹ کو ایک سیل میں جوڑنے کے لیے فنکشن استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ ایک ہی کام کرنے کے لیے آپریٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ کون سا آپریٹر ہے؟
شعر غزل کے ایک حصے کو کہتے ہیں۔ شعر کی سطر کو مصرع کہا جاتا ہے، اشعار پہ مشتمل مجموعہ کو غزل کہتے ہیں ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔
پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں
غزل میں موجود اشعار کے مختلف نام ہیں پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے جس کے دونوں مصروں میں قافیہ اور ردیف استعمال ہوتا ہے غزل کے آخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے جس کے پہلے مصرعے میں اکثر شاعر اپنا تخلص استعمال کرتے ہیں اور دوسرے مصرعے میں قافیہ کے ساتھ ردیف کا استعمال کیا جاتا ہے مطلع اور مقطع کے درمیان موجود غزل کے تمام اشعار (ہرایک شعر کو) کو بیت کہتے ہیں۔
مطلع غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف ہوتا ہے۔
اسی شعر سے غزل کی زمین اور بحر کا تعین ہوتا ہے۔
مقطع غزل کا آخری شعر ہوتا ہے۔
اس میں اکثر شاعر اپنا تخلص (ادبی نام) استعمال کرتا ہے۔
رباعی عربی کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی چار چار کے ہیں۔ شاعرانہ مضمون میں رباعی اس صنف کا نام ہے جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔
رباعی کا وزن مخصوص ہے، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا ضروری ہے۔ تیسرے مصرعے میں اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں۔
اس کے موضوعات مقرر نہیں۔
اردو فارسی کے شعرا نے ہر نوع کے خیال کو اس میں سمویا ہے۔ رباعی کے آخری دو مصرعوں خاص کر چوتھے مصرع پر ساری رباعی کا حسن و اثر اور زور کا انحصار ہے۔رباعی کا موجد فارسی شاعر رودکی کو مانا جاتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان ہیں